یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے اُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنّ ِ حرب سے کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغِ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اُٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے عبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فگار ہے زمین بھی تپی ہوئی فلک بھی شعلہ بار ہے مگر یہ مردِ تیغ زن، یہ صف شکن فلک فگن کمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے دلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہے کہ جس کے دبدبے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہے حبیبِ مُصطفیٰ ہے یہ، مجاہدِ خدا ہے یہ جبھی تو اس کے سامنے، یہ فوج گرد گرد ہے یہ ...
تقریباً سو برس پہلے کی بات ہے۔ جونپور شہر میں سناروں کا ایک خاندان آباد تھا خاندان کا سربراہ سندر لال نامی ایک بڑا زیرک، تجربہ کار اور جہاندیدہ شخص تھا۔بے شمار دولت اور جائداد اس کے پاس تھی۔بیچ شہر کے چوراہے پر سونے چاندی کی بہت بڑی دوکان بھی اسکی تھی۔ کاروبار اتنے عروج پر تھا کہ رات دن ہن برستا تھا۔لیکن ساری دولت و خوشحالی کے باوجود سندر لال کی دنیا تاریک تھی۔ وہ اکثر اداس اور ملول رہا کرتا تھا اس کی بیوی دولت مند گھرانے کی حسین و جمیل عورت تھی۔ اس کے رخ و عارض اور قد و قامت کی زیبائی ایک خاص سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی تھی سندر لال جب بہت پریشان نظر آتا تو وہ دل موہ لینے والی آواز اسے تسلی دیتی۔ " ناحق آپ اپنا خون جلاتے ہیں۔ اولاد قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے۔ وہ کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہے جس دن مالک کی کرپا ہوجائے گی آپ کے نام کا چراغ جل اٹھے گا۔ وقت کا انتظار کیجئے۔ سنسار کا پالنہار اپنی چوکھٹ سے محروم نہیں کرے گا۔ ایک نہ ایک دن ہاری آرزوؤں کی کلی کھل کر رہے گی"۔ حسین و دلکش بیوی کی باتوں سے شبنم کی ٹھنڈی بوند ٹپکتی اور تھوڑی دیر کے لیے دل کی آگ بجھ ج...