صلاة الإكْسير الأعْظم صلاة الإكْسير الأعْظم بسم الله الرحمن الرحيم اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَقْبل بها دُعاءنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَسْمع بها اسْتغاثتنا ونداءنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُسلِّم بها إيماننا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُقوِّي بها إيقاننا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَغْفر بها ذُنوبنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَسْتر بها عُيوبنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَحْفظُنا بها من اكتساب السيِّئات. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُوَفِّقنا بها لعمل الصَّالحات. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تفلح بها عمَّا يُرْدينا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تكسب بها ما يُنْجينا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُجنِّب بها عنَّا الشرَّ كلَّه. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَمْنحنا بها الخَيْر كلَّه. اللَّهمَّ صلِّ...
تقریباً سو برس پہلے کی بات ہے۔ جونپور شہر میں سناروں کا ایک خاندان آباد تھا خاندان کا سربراہ سندر لال نامی ایک بڑا زیرک، تجربہ کار اور جہاندیدہ شخص تھا۔بے شمار دولت اور جائداد اس کے پاس تھی۔بیچ شہر کے چوراہے پر سونے چاندی کی بہت بڑی دوکان بھی اسکی تھی۔ کاروبار اتنے عروج پر تھا کہ رات دن ہن برستا تھا۔لیکن ساری دولت و خوشحالی کے باوجود سندر لال کی دنیا تاریک تھی۔ وہ اکثر اداس اور ملول رہا کرتا تھا اس کی بیوی دولت مند گھرانے کی حسین و جمیل عورت تھی۔ اس کے رخ و عارض اور قد و قامت کی زیبائی ایک خاص سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی تھی سندر لال جب بہت پریشان نظر آتا تو وہ دل موہ لینے والی آواز اسے تسلی دیتی۔ " ناحق آپ اپنا خون جلاتے ہیں۔ اولاد قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے۔ وہ کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہے جس دن مالک کی کرپا ہوجائے گی آپ کے نام کا چراغ جل اٹھے گا۔ وقت کا انتظار کیجئے۔ سنسار کا پالنہار اپنی چوکھٹ سے محروم نہیں کرے گا۔ ایک نہ ایک دن ہاری آرزوؤں کی کلی کھل کر رہے گی"۔ حسین و دلکش بیوی کی باتوں سے شبنم کی ٹھنڈی بوند ٹپکتی اور تھوڑی دیر کے لیے دل کی آگ بجھ ج...
Post a Comment
0 Comments