صلاة الإكْسير الأعْظم صلاة الإكْسير الأعْظم بسم الله الرحمن الرحيم اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَقْبل بها دُعاءنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَسْمع بها اسْتغاثتنا ونداءنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُسلِّم بها إيماننا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُقوِّي بها إيقاننا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَغْفر بها ذُنوبنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَسْتر بها عُيوبنا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَحْفظُنا بها من اكتساب السيِّئات. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُوَفِّقنا بها لعمل الصَّالحات. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تفلح بها عمَّا يُرْدينا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تكسب بها ما يُنْجينا. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تُجنِّب بها عنَّا الشرَّ كلَّه. اللَّهمَّ صلِّ على سيِّدنا ونبيِّنا محمَّدٍ صلاةً تَمْنحنا بها الخَيْر كلَّه. اللَّهمَّ صلِّ...
ہر طرف سے پھیر کر چہرہ جو تیرے بن گئے بن گیا ہے جن کا تو دلدار ان کی عید ہے ذکر تیرا، یاد تیری، تیرا غم، تیرا خیال تیری الفت میں ہیں جو سرشار ان کی عید ہے لب پہ گالی نہ غیبت دل میں کینہ ہے نہ بغض صاف ستھرا ہے جن کا کردار ان کی عید ہے جن کے دل میں ہے یتیموں، بیواؤں کا غم غم کے ماروں کے ہیں جو غمخوار ان کی عید ہے آنکھ پُرنم، دل میں غم، اپنے گناہوں پہ ملال ہے زباں پہ جن کے استغفار ان کی عید ہے نیکیوں میں گزرے جن کے ایامِ صیام دیکھ عاجز وہ ہیں نیکوکار ان کی عید ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے اُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنّ ِ حرب سے کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغِ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اُٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے عبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فگار ہے زمین بھی تپی ہوئی فلک بھی شعلہ بار ہے مگر یہ مردِ تیغ زن، یہ صف شکن فلک فگن کمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہے یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے دلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہے کہ جس کے دبدبے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہے حبیبِ مُصطفیٰ ہے یہ، مجاہدِ خدا ہے یہ جبھی تو اس کے سامنے، یہ فوج گرد گرد ہے یہ ...